کاروار:19؍اگست (ایس اؤ نیوز)23اگست بروز پیر سے اسکولوں میں تعلیم کی شروعات ہونے جارہی ہے، محکمہ تعلیمات تیاری میں ہے، اسکولوں کی شروعات تو ہوجائے گی لیکن طلبا اور والدین سوال کررہے ہیں کہ پڑھنے کے لئے کتابیں کہا ں ہیں ؟۔
محکمہ تعلیمات کی طرف سے کئے گئے اعلان کے مطابق 23اگست سے نہم اور دہم جماعتوں کی کلاسس شروع ہوجائیں گی ۔ لیکن تعلیمی سال شروع ہوکر 2مہینے گزر چکے ہیں ابھی تک نصابی کتب اسکولوں کو نہیں پہنچے ہیں۔ جس پر طلبا کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔ کورونا کی وجہ سے کتابوں کی اشاعت میں دیری ہونےکی بات کہی جارہی ہے۔
محکمہ تعلیمات عامہ کا کہنا ہےابھی تک 56فی صد کتابوں کی اشاعت ہوچکی ہے تقسیم کاری کاکام بھی شروع ہوگیا ہے۔ محکمہ کی مانیں تو کووڈ کی وجہ سے پرنٹنگ میں دیری ہوئی ہے، البتہ مہینہ ختم ہونے تک 80فی صد کتابیں پرنٹ ہوجائیں گی اور 75فی صد کتابوں کی تقسیم بھی ہوجائے گی، محکمہ کے مطابق 15ستمبر تک اشاعت اور تقسیم کاری کاعمل مکمل ہوجائے گا۔
پتہ چلا ہے کہ چندایک مقامات پر سرکاری اسکولوں میں بُک بینک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جہاں سے اسکولی طلبا اپنی کتابوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔بک بینک میں 9ویں جماعت کی 50فی صد کتابوں کا ذخیرہ ہے تو 10ویں جماعت کی کتابوں کو جمع کرنےمیں کافی مشکلات پیش آرہی ہیں۔ دوسری طرف آن لائن کلاسوں کی شروعات ہونے سے طلبا کو درپیش پریشانیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ویب سائٹ سے کتابیں ڈاؤن لوڈ کرنے اور موبائیل کے ذریعے مطالعہ کرنے کا اختیار دینے کی بات کہی جارہی ہے لیکن طلبا کی پریشانی یہ ہے کہ انہیں جس موبائیل سے ڈاؤن لوڈ اور مطالعہ کرنا ہے وہ موبائیل ان کے سرپرستوں کے استعمال میں ہوتاہے اور والدین طلبا کو متعینہ وقت تک ہی استعمال کےلئے دیتے ہیں ساتھ ساتھ موبائیل کا اسکرین چھوٹا ہونے سے بھی مطالعہ میں پریشانی ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں میں معاشی پسماندگی کا شکار طلبا کو کتابوں کا نہ ملنا بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
کیا پرائیویٹ اسکولوں کا دباؤ ہے ؟: ابھی تک طلبا اور اساتذہ کو پوری طرح ٹیکہ بھی نہیں لگایاگیا ہے اور کتابیں بچوں تک نہیں پہنچی ہیں اس سے قبل ہی کلاسوں کی شروعات کی جارہی ہیں ۔ دراصل حکومت پرائیویٹ اسکولوں اورکالجوں کے انتظامیہ کو فائدہ پہنچانے کےلئے داخلوں اور امتحانات کو منظوری دئیےجانےکا الزام لگایاجارہا ہے۔
تین ماہ ہوگئے کتابیں نہیں پہنچیں :عام طورپر تعلیمی سال شروع ہونےکے ایک مہینے بعد نصابی کتب طلبا کےہاتھوں میں پہنچ جاتی تھیں۔ لیکن امسال آن لائن کلاسس شروع ہوئے تین مہینے گزر گئے ابھی تک کتابیں بچوں کو دستیاب نہیں ہیں۔ مالی طورپر کمزور طلبا کو آن لائن کلاسوں میں شرکت پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔ ایسے میں کتابیں نہیں ملتی ہیں تو مسائل میں اور اضافہ ہونےکا والدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے۔
کووڈ کا پتہ چلا تو اسکول بند : کلاس میں شریک ہونے والے طلبا میں سے کسی ایک بچے میں بھی کورونا کی تصدیق ہوجاتی ہے تو اسکول ایک ہفتہ تک بند کی جائےگی ۔ پھر اس کے بعد اسکول کو سائنٹائزکرنے کے بعد دوبارہ شروع کی جائے گی۔